Pay in installments of $50.00 with
,
and
Shipping Estimate
USA
- USA
- CAN
- USA
- CAN
Ships within 48 hours · Estimated delivery Jul 18 - Jul 23
For Your Every Summer RSVP, with Code: SUMMER15
Description
دریائے آمو کے کنارے | عصمت درانی" " _____ " " " " " " " " " ( ) " " 2400 (Aral Sea) ( ) " " " " " " " " " _ # _
لیاقت پور ادبی فورم کے جنرل سیکرٹری طارق ملک کا روز نامہ جنگ ملتان میں شائع ہونے والا آرٹیکل " دریائے آمو کے کنارے" احباب کی نذر _____
"خوشبو لٹاتی پھولوں سے سجی روشیں خوبصورت منظر پیش کر رہی تھیں۔دلکشی میں مزید اضافے کا سبب شفاف پانیوں سے لبالب بھرے حوض اور رنگین روشنیاں بکھیرتے پانی کی دھاریں اچھالتے حسین سنگی فوارے تھے۔ بچے اور کمسن لڑکیاں،بالے بھاگتےدوڑتے، سائیکل چلاتے،پاپ کارن ٹونگتے، برگر کھاتے اور کون چاٹتے زندگی کی انمول خوشیاں کشید کر رہے تھے" یہ چند سطور ڈاکٹر عصمت درانی کے سفر نامہ " دریائے آمو کے کنارے" کی ہیں جو انہوں نے "وسطی ایشیا سائنس، ثقافت اور تجارت میں اطلاعات اور کتب خانہ جاتی مآخذ " کے عنوان سے ازبکستان میں منعقدہ ایک بین الاقوامی کانفرنس میں شرکت کے دوران ازبکستان میں اپنے چودہ روزہ قیام کے دنوں میں سفر و حضر کے مشاہدات اور حالات و واقعات کو قرطاس ابیض پر اتار کر " دریائے آمو کے کنارے " کے عنوان سے ایک سفر نامہ شائع کیا ہے جو کہ ادب کی دنیا میں نہایت خوبصورت اضافے کا باعث ہے ڈاکٹر عصمت درانی کا نام علم و ادب کی دنیا میں کسی تعارف کا محتاج نہیں ہے وہ اسلامیہ یونیورسٹی بہاولپور میں نہ صرف فارسی کی ایسوسی ایٹ پروفیسر ہیں بلکہ شعبہء فارسی کی چیئرپرسن بھی ہیں قبل ازیں وہ اپنی دو تصانیف " تذکرہ شیخ دولا گجراتی(فارسی سے اردو ترجمہ) اور " نوابان بہاولپور کے کتب خانوں کی تاریخ " ادب کو دان کر چکی ہیں جبکہ کتب خانہ سلطانی کے علاوہ ان کے متعدد تحقیقی مقالہ جات اور ادب و ثقافت پر مبنی کئی مضامین مختلف قومی اخبارات کے علاوہ قومی و بین الاقوامی رسائل و جرائد میں بھی شائع ہو چکے ہیں دریائے آمو کے کنارے ان کا ایک تازہ سفر نامہ ہے جسے دنیائے ادب میں خوب سراہا جا رہا ہے
دریائے آمو وسط ایشیا کا سب سے بڑا دریا ہے جو پامیر کے پہاڑوں سے نکل کر افغانستان، تاجکستان، ترکمنستان اور ازبکستان کی قریباً 2400 کلومیٹر مسافت طے کرتے ہوئےبحیرہ ارال(Aral Sea) میں جا گرتا ہے(بحیرہ ارال دراصل دنیا کی چوتھی بڑی جھیل ہے جس کے چاروں طرف زمین ہے تاہم اس جھیل کے وسیع حجم کے باعث اسے بحیرہ ارال کا نام دیا گیا ہے جبکہ تاریخ کی کتابوں میں اس جھیل کو خوارزم کے نام سے بھی جانا جاتا ہے) یہ وہی دریائے آمو ہے جس کے متعلق پروفیسر عصمت درانی اپنے سفرنامے میں لکھتی ہیں کہ " وخش اور آمو آریائی قوموں کے لیے مقدس دریا رہے ہیں جنہیں خوارزم کے لوگ سجدہ کرتے تھے کیونکہ یہ دریا زمینوں کو شاداب بناتے تھے لوگوں کو رزق اور جانوروں کو گھاس اور چارے سے نوازتے تھے مزید لکھتی ہیں کہ " سکندر اعظم نے اپنے حملوں کے دوران مختلف ممالک سے بطورِ مال غنیمت جو خزانہ حاصل کیا تھا وہ دریائے آمو کے ساحلوں پر اتفاقاً کھو گیا تھا اور بعض روایات کے مطابق پانی میں بہہ گیا تھا اسی خزانے کا بازیاب شدہ کچھ حصہ بعد ازیں کئی ہاتھوں سے ہو کر اور ہزاروں میل کا فاصلہ طے کر کے بالآخر برطانیہ کے میوزیم کی مضبوط پناہ گاہوں میں جا پہنچا"
سفر نامے کا نام اگرچہ "دریائے آمو کے کنارے" رکھا گیا ہے مگر اس کا یہ ہرگز مطلب نہیں ہے کہ دریائے آمو ہی اس سفر نامے کا خاص موضوع ہے بلکہ سفر نامے میں ازبکستان کے تاریخی پسِ منظر، خوبصورتی،روحانیت، علم و ادب اور تہذیبی خدوخال پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے خصوصاً تاشقند، ترمذ، سمرقند اور بخارا میں مقیم لوگوں کے رہن سہن، بول چال، رسم و رواج، شادی بیاہ اور مہمان نوازی کا بھی خوب تذکرہ کیا گیا ہے مصنفہ لکھتی ہیں کہ " تاجکوں کی رسم ہے کہ کسی کے ہاں جب بھی کوئی مہمان آئے اور کھانے کی میز پر بیٹھے تو میزبان دعا مانگتا ہے اور اللہ کا شکر ادا کرتا ہے کہ اس کے گھر مہمان آیا ہے اور خدا کی رحمت نازل ہوئی ہے"
سفر نامے میں ازبکستان کے دو درجن سے زائد مزارات کا بھی ذکر کیا گیا ہے جو اپنی خوبصورتی کے لحاظ سے پر شکوہ اور فن تعمیر کا شہکار بتائے گئے ہیں یہ مزارات تاشقند،ترمذ، سمرقند اور بخارا میں ہر خاص و عام کے لیے مرجع خلائق ہیں خصوصاً حضرت ابو عبداللہ محمد بن اسماعیل بخاری المعروف حضرت امام بخاری رحمتہ اللہ علیہ کا مزار ان کی گراں مایہ شخصیت اور ان کے نام سے منسوب قلعہ بخارا اور حضرت امام بخاری تحقیقاتی مرکز و میوزیم کی اہمیت و افادیت پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے اور بتایا گیا ہے کہ " میوزیم میں وہ قرآن مجید بھی موجود ہے جو حضرت عثمان غنی رضی اللہ تعالٰی عنہ اپنی شہادت کے وقت تلاوت کر ریے تھے اور اس پر خون کے دھبے بھی موجود ہیں جو ان کی شہادت کے وقت پڑے تھے کہا جاتا ہے کہ یہ قرآن مجید امیر تیمور سمرقند لائے تھے تاہم سوویت یونین کے دور میں اس قرآن مجید کو ماسکو منتقل کر دیا گیا تھا بعد ازاں لینن نے اسے واپس تاشقند بھجوا دیا تھا" جبکہ قلعہ بخارا جو روایات کے مطابق سیاوش ابن کیکاوس نے پانچویں صدی عیسوی میں تعمیر کرایا تھا کی تاریخی اہمیت بیان کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ قلعہ کی فصیل چولستان کے قلعہ ڈیراور سی دکھائی دیتی ہے قلعہ بخارا دفاعی ضروریات کے علاوہ بخارا کے حکمرانوں اور سرکاری عہدیداران کے لیے بھی استعمال ہوتا رہا ہے قلعہ بخارا متعدد مرتبہ نہ صرف شکست و ریخت کا شکار رہا بلکہ کئی مرتبہ حملہ آوروں کے ہاتھوں تباہ بھی ہوا ہے اب قلعہ کا بیشتر حصہ میوزیم کی شکل اختیار کر چکا ہے جس کے ایک حصے میں امرائے بخارا کے ملبوسات ،دستاریں، تلواریں، تمغے،تکمے اور روز مرہ استعمال کی چیزیں رکھی گئی ہیں جبکہ دوسرے حصے میں حنوط شدہ درندوں، پرندوں، جانوروں اور حشرات الارض کے لاشے کیمیائی محلول سے محفوظ کیے گئے ہیں سفر نامے کی خاص بات یہ ہے کہ یہ قاری کو اپنے حصار میں لے لیتا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ وہ خود ازبکستان میں موجود ہے اور تمام مناظر اس کی آنکھوں کے سامنے رونما ہو رہے ہیں جبکہ طنز و مزاح کے خوبصورت امتزاج نے سفر نامہ کو چار چاند لگا دیے ہیں
سفر نامہ میں ازبکستان کے تاریخی مقامات، عمارات،مزارات،بازاروں اور سیاحوں کی خوبصورت اور دیدہ زیب تصویریں بھی شامل کی گئی ہیں علاوہ ازیں حافظ شیرازی، خواجہ غلام فرید،معین الدین فضل اللہ،دستگیر پنجتیری،فردوسی، مجید امجد، لائق شیر علی، سلیم کوثر اور ن م _ راشد کے اردو، فارسی و سرائیکی شعروں کے برمحل استعمال سے سفر نامے کی خوبصورتی میں مزید اضافہ ہوا ہے المختصر دریائے آمو کے کنارے ایک ایسا سفر نامہ ہے جو قاری پر علم و آگہی کے نئے در وا کرتا ہے جس سے وہ اپنے دامنِ طلب میں بہت کچھ سمیٹ سکتا ہے۔#
طارق ملک
اللہ آباد _تحصیل لیاقت پور
ضلع رحیم یار خان
Shipping Notes
- Free Standard Shipping on $100+ Orders to the USA.
- Except Preorder products are shipped in 48 hours.
- Delivery to the USA:
- Standard Shipping : 3-10 business days
- If time is of the essence, please consider selecting expedited delivery for faster service.
Exchange/Return Notes
- We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
- Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
- To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
- Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy
4.5 ★★★★★
Based on 26 reviews
Sort
Product Reviews
★★★★★ 1
Better off saving your money for a quality brand like Acer or Samsung
Size: 24"/FHD/240Hz
If you were looking for a decent gaming monitor with a good refresh rate, you better keep looking. Honestly, I wanted to really like this thing. For $120, it ticked off a lot of great features for me: at least 120Hz refresh rate, 1080p quality, and some nifty reticule marks for FPS gamers like myself. And for a year I had no problems with it until a few days ago. The ability to control input's, power, and toggle the reticule features all lie on one singular button behind the monitor. Here lie's the issue; if that power button starts messing up, there is no way to control or turn on/off the monitor. This is exactly what happened on my unit; the power button/control went out and the monitor was basically useless. I contacted Koorui support via email, and all I got was a vague "Did you confirm the button is really broken" response. Replied back that I did, and the manufacturer has ghosted me. Basically, I HIGHLY advise you just save up a few $80 or $100 dollars and get a decent entry level gaming monitor. By going cheap with this one, you will just end up probably wearing out the power/control button and be left with an expensive paperweight. If you are DIY repair savvy, I am sure that replacing the power/control button probably is not that big of a deal. In which case, go right ahead as it is a decent monitor for the price. But with that said, having this thing break leaves you with basically no options to get it fixed and good luck trying to get a hold of Koorui for support. Sadly, this is a growing trend on buying electronic's here on amazon from smaller brand sellers.
*Update* So as of writing this review, I got Koorui to reach out to me. They would agree to replace the monitor for free, but I would have to front the shipping costs. They have their operations out in California, so if you live on the east coast then expect to pay around $40-50 for shipping for the monitor all the way out there (nearly half the monitor's value). I told Koorui that this just did not make any financial sense and they offered to refund me 50% of the monitor's value. However, they have yet to specify how they will send the refund, so I am unsure of whether I will see my partial refund when this is all said and done. So know that if you do proceed to get this monitor and need to return it past the 30 day return window covered by Amazon. TLDR: just save up an extra $50-100 for a big brand gaming monitor and save yourself the headache of dealing with all of this.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on October 24, 2024
★★★★★ 5
I feel fully enveloped in the work
Size: 34"/WQHD/1000R/HDR400
Changed my work at home experience. I feel fully enveloped in the work. I don't use it for gaming so can't comment on that. But for laptop heavy work days, this is a great experience.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on May 13, 2026
★★★★★ 5
Great color. Great Price. Easy to install
Display Size: 24 Inches, Size: SE2426H, Style: AMD Freesync
I just needed a replacement monitor for daily desk use and wasn't interested in gaming, etc. so this fit my needs beautifully. The color is great and the picture is crisp. It was a breeze to install. Great, everyday monitor and super size for home office desks where you won't need a theatre sized monitor.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on May 31, 2026
★★★★★ 5
Easy and good.
Display Size: 24 Inches, Size: SE2426H, Style: AMD Freesync
Easy setup. Good image.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on May 10, 2026
★★★★★ 5
No frills just high quality display
Display Size: 24 Inches, Size: SE2426H, Style: AMD Freesync
Inexpensive, high quality, no frills. Perfect for home office where you are using for work tasks. For my setup I ditched the stand for vesa mount so I didn’t want to pay for a model with an adjustable stand that I wouldn’t need.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on June 2, 2026
recommand products
Mountain Curtain - Oyster
595.00
Flank Steak, Asian Fusion Seasoned 5oz, with Asparagus and Onion Potatoes + Avocado
22.45
Flank Steak, Montreal Seasoned 10oz, with Spinach and Onion Potatoes + Avocado
32.45
Flank Steak, Asian Fusion Seasoned 5oz, with Green Beans and Cranberry Almond Quinoa + Avocado
22.45
Flank Steak, Montreal Seasoned 10oz, with Green Beans and Cranberry Almond Quinoa + Avocado
32.45