SKU: 21132295216

لیڈرز | Leaders | Richard Nixon | رچرڈنکسن

Sale price$270.00 Regular price$300.00
Save 10%

Pay in installments of $75.00 with ShopPay, AfterPay and Klarna

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Jul 24 - Jul 29

Promo Codes Available:

For Your Every Summer RSVP, with Code: SUMMER15

Description

لیڈرز | Leaders | Richard Nixon | رچرڈنکسن: 15 1971 1944 35 1960 10 1600 , " " " " 1973 1980 59% 50%

نکسن شاک:

جسے اتحادیوں کو مجبوراً برداشت کرنا پڑا

15 اگست 1971 کو امریکی صدر رچرڈ نکسن نے اچانک اعلان کیا کہ اب امریکی ڈالر کے بدلے سونا نہیں ملے گا۔ یعنی دنیا کے وہ ممالک جو اپنے ڈالرز کے بدلے امریکہ سے سونا لینے کا حق رکھتے تھے، وہ حق ختم کر دیا گیا۔ یہ فیصلہ نہ کانگریس کے مشورے سے ہوا، نہ ہی اتحادی ممالک کو اعتماد میں لیا گیا۔ بس ایک رات میں عالمی مالیاتی نظام کو یکطرفہ طور پر بدل دیا گیا۔ تاریخ میں اس فیصلے کو نکسن شاک کہتے ہیں۔

سنہ 1944 میں بریٹن ووڈز کے معاہدے کے تحت ڈالر کو سونے سے جوڑ دیا گیا تھا۔ ایک اونس سونے کی قیمت 35 ڈالر کے برابر طے کی گئی تھی اور باقی دنیا کی کرنسیاں ڈالر سے منسلک ہو گئی تھیں۔ اس طریقہ کار کی بنیاد پر امریکہ دنیا کا مالیاتی مرکز بن گیا تھا۔ امریکہ کے پاس دنیا کے زیادہ تر سونے کے ذخائر تھے۔ مگر 1960 کی دہائی میں ویتنام جنگ، اندرونی اخراجات اور بین الاقوامی امداد نے امریکہ کے بجٹ کو نقصان پہنچایا۔ اخراجات پورے کرنے کیلئے امریکہ نے بہت زیادہ ڈالر چھاپ دیے مگر سونے کا ذخیرہ نہیں بڑھا۔ اس وقت امریکی خزانے میں صرف 10 ارب ڈالر مالیت کا سونا بچا تھا جبکہ بیرون ملک ڈالر کی واجب الادا رقم پچاس ارب سے زیادہ تھی۔ فرانس نے سب سے پہلے اس چیز کا بھانڈا پھوڑا اور اس چیز کا کھلم کھلا اعلان کرنا شروع کیا کہ امریکہ ڈالر دھڑا دھڑ ڈالر چھاپ کر اپنا خسارہ پورا کر رہا ہے اور اسکا نقصان پوری دنیا کو ہو رہا ہے۔ فرانس اور جرمنی نے امریکہ سے اپنا سونا واپس مانگ لیا۔ اس کے کئی دوسرے ملک بھی اس میں شامل ہو گئے۔ واشنگٹن پر دباؤ بڑھا کہ یا تو سونا دے یا ڈالر کی قیمت کم کرے۔ امریکہ کے پاس اتنا سونا تھا ہی نہیں کہ سب کو واپس مل سکتا۔

اگرچہ نکسن شاک ایک قومی سیاسی فیصلہ تھا، لیکن اس کے پیچھے بینکرز کا سٹرکچرل کردار واضح تھا۔ بینکرز براہ راست اس کمرے میں نہیں بیٹھے تھے جہاں یہ فیصلہ ہوا تھا، لیکن اس کمرے میں ان کے مفادات کا دباؤ موجود تھا۔ وال اسٹریٹ کے ادارے اور بین الاقوامی مالیاتی نظام پر ان کی گرفت اس قدر مضبوط تھی کہ کوئی بھی فیصلہ ان کے مفادات کے بغیر نہیں ہو سکتا تھا۔ فیڈرل ریزرو کے نظام نے اس اثر و رسوخ کو انسٹیٹیوشنل حیثیت دلوا دی تھی۔ پال وولکر جیسے ماہرین کا وال اسٹریٹ کے ساتھ گہرا تعلق تھا۔ اس لئے فیصلہ سازی میں بڑے بینکوں کے مفادات کو نظر انداز کرنا ممکن نہیں تھا۔

ڈالر چھاپنے کے مرکزی عمل میں فیڈرل ریزرو کا کردار ناقابل تنسیخ ہے۔ حکومت جب اپنے بجٹ کے خسارے پورے کرنے کے لیے قرضے کی ضرورت ہوتی ہے تو ٹریژری بانڈز جاری کرتی ہے۔ فیڈرل ریزرو ان بانڈز کو خرید کر حکومت کے کھاتے میں نئی رقم جمع کروا دیتا ہے۔ یہی وہ بنیادی طریقہ کار ہے جس کے تحت ڈالر تخلیق ہوتے ہیں۔ یہ عمل نہ تو پرنٹنگ پریس چلانے جیسا ہے اور نہ ہی عوام میں براہ راست رقم بانٹنے جیسا۔ یہ ایک تکنیکی اور الیکٹرانک عمل ہے جس کے ذریعے نئی دولت سب سے پہلے بینکنگ سسٹم کے ریزرو اکاؤنٹس میں داخل ہوتی ہے، گویا بینکرز ہی اس نئی دولت کے اولین وارث ہوتے ہیں۔

ڈالر چھاپنے کے عمل کا کسی کو فائدہ ہو نہ ہو، بینکاروں کے لیے یہ عمل ہمیشہ فائدہ مند ہی رہتا ہے۔ جب فیڈرل ریزرو رقم تخلیق کرتا ہے تو وہ رقم سب سے پہلے بینکوں کے پاس سستی شرح سود پر پہنچتی ہے۔ بینک اس سستی رقم کو بڑی شرح سود پر قرضے دے کر یا مالیاتی بازاروں میں لگا کر زبردست منافع کماتے ہیں۔ اس کے برعکس، جب اس زیادہ رقم کی وجہ سے مہنگائی بڑھتی ہے تو بینکرز کی حقیقی دولت پر کوئی فرق نہیں پڑتا، کیونکہ ان کی آمدنی اور اثاثے مہنگائی کے ہم قدم بڑھ رہے ہوتے ہیں۔ البتہ، عام شہری کی محنت اور جمع پونجی کی قوت خرید کم ہو کر رہ جاتی ہے۔ اس طرح بینکار نہ صرف ہر صورت میں فائدہ اٹھاتے ہیں بلکہ درحقیقت وہ عوام کی معاشی پسماندگی پر پرورش پاتے ہیں۔

فیڈرل ریزرو کے قیام، اس کی کرنسی تخلیق کرنے کی صلاحیت، اور سود کی شرح طے کرنے کے اختیار نے ایک ایسا گہرا مالیاتی و سیاسی ڈھانچہ تشکیل دے دیا ہے جو ایک خودکار ڈیپ اسٹیٹ کا کردار ادا کرتا ہے۔ یہ ڈھانچہ کسی ایک صدر یا حکومت کے احکامات سے بالاتر ہو کر کام کرتا ہے۔ یہ ایک ایسی طاقت ہے جسے ووٹ دے کر ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اسے نہ تو آئینی حلف لینا ہوتا ہے اور نہ ہی اسے عوامی جوابدہی کا ڈر ہے۔ یہ ڈیپ اسٹیٹ عوامی پالیسیوں کو نہ صرف شکل دیتی ہے بلکہ اپنے مفادات کے تحفظ کے لیے انہیں مسخ بھی کرتی ہے۔ یہی وہ حقیقی طاقت کا مرکز ہے جو واشنگٹن میں بیٹھے سیاستدانوں سے کہیں زیادہ طاقتور ہے، اور جس کا مقصد صرف اور صرف اپنے مالیاتی تسلط کو برقرار رکھنا ہے، خواہ اس کی قیمت عوامی فلاح اور معاشی انصاف کو دائو پر لگا کر ہی کیوں نہ ادا ہو۔ بینکرز کے اثر کا اندازہ آپ اس بات سے لگا لیجئے کہ میڈیچی فیملی کا اثر چھ سو سال سے قائم ہے۔ برنگوزی فیملی ساڑھے چار سو سال اور روتھسچائلڈ خاندان تیس سو سال سے دنیا پر راج کر رہا ہے۔ واربرگ خاندان سنہ 1600 سے یورپ اور امریکہ کی سیاست پر اثرانداز ہوتا آ رہا ہے۔ امریکی بینکر جے پی مورگن کا خاندان دو سو سال سے اور راکفیلر خاندان ڈیڑھ سو سال سے امریکہ کے مالیاتی اور سیاسی فیصلوں پر اثرانداز ہو رہا ہے۔ان کے سامنے کسی صدر، کسی وزیراعظم, کسی وزیر خزانہ کی کیا حیثیت ہو سکتی ہے؟ اہم ترین بات یہ ہے کہ یہ تمام خاندان مکمل طور پر متحد ہیں۔ یورپئین طاقتوں کا اتحاد سیاستدانوں کی دین نہیں بلکہ اسی بینکنگ ڈیپ اسٹیٹ کی بدولت ہے۔ یہی طاقت نکسن شاک سمیت تمام فیصلوں پر اثرانداز ہوتی آئی ہے۔

نکسن نے جب یہ اعلان کیا تو یہ بھی کہا کہ یہ فیصلہ "عارضی طور پر" کیا جا رہا ہے، دنیا کے زیادہ تر لوگ اس پر یقین کر بیٹھے۔ لیکن وہ عارضی فیصلہ مستقل بن گیا۔ اس دن سے آج تک دنیا میں کوئی کرنسی سونے یا کسی دھات سے منسلک نہیں رہی۔ سب کاغذی ہیں، سب اعتبار پر چل رہی ہیں۔ یعنی کرنسی اب حکومتوں کی نیت اور بازار کے اعتماد پر کھڑی ہے، کسی حقیقی اثاثے پر نہیں۔ اب ذرا دیر کیلئے سوچئے کہ اصل میں اعتماد کس پر کیا جا رہا ہے؟ ان مغربی بینکرز پر جن کے پاس بلا شرکت غیرے ڈالر چھاپنے کا اختیار ہے۔ وہ بینکرز جو مغربی ریاستوں کے مضبوط ترین ستون ہیں اور جن کے غیرقانونی، غیراخلاقی کاموں کے ثبوت بارہا پوری دنیا کے سامنے آ چکے ہیں۔

امریکہ کی یہ شاطرانہ چال کامیاب ہوئی۔ پہلے وہ سونا بانٹنے کی ذمہ داری سے آزاد ہوا، پھر اپنی معیشت پر مکمل اختیار حاصل کر لیا۔ اب اگر اسے لجنگ لڑنی ہوتی، امداد دینی ہوتی یا قرض بڑھانا ہوتا، وہ بس نئے ڈالر چھاپ سکتا تھا۔ باقی دنیا کے لیے وہی ڈالر اب بھی قیمتی تھا کیونکہ عالمی تجارت، خاص طور پر تیل کی تجارت ڈالر ہی میں ہوتی تھی۔ بلا رکاوٹ نوٹ چھاپنے آزادی امریکہ کیلئے ایٹم بم سے کہیں زیادہ مہلک ہتھیار تھا جس سے پوری دنیا کو سرنگون کیا جا سکتا تھا اور آگے چل کر یہی ہوا۔

یہ واقعہ صرف امریکہ کے لیے نہیں، پوری دنیا کے لیے ایک زلزلہ ثابت ہوا۔ فرانس اور جرمنی کے رہنما غصے میں تھے کہ واشنگٹن نے بغیر بتائے نظام توڑ دیا۔ لیکن انہیں امریکہ اور ڈالر سسٹم کی ضرورت تھی اسلئے انہوں نے یہ نظام قبول کر لیا۔

امریکہ کی اس مالیاتی پالیسی کے خلاف احتجاج کے باوجود، اسے قبول کرنے کی سب سے بڑی وجہ سرد جنگ تھی۔ دنیا کے ترقی یافتہ ممالک اور عالمی سرمایہ دار طبقے کے لیے سوویت یونین جیسے کمیونسٹ بلاک کا عروج سب سے بڑا وجودی خطرہ تھا۔ اس جنگ کو جیتنے کے لیے انہیں ایک طاقتور رہنما کی ضرورت تھی، اور امریکہ ہی وہ واحد ملک تھا جو اس کی قیادت کر سکتا تھا۔ چنانچہ، یورپی ممالک اور عرب اتحادیوں نے جان بوجھ کر امریکہ کی اس مالیاتی بے اصولی اور ڈالر کے بے دریغ اخراج کو برداشت کیا۔ ان کے لیے بریٹن ووڈز کے معاہدے کی خلاف ورزی سے پیدا ہونے والا مالیاتی عدم توازن، سوویت یونین کے سیاسی و معاشی خطرے کے مقابلے میں ایک چھوٹا مسئلہ تھا۔ حقیقت یہ تھی کہ امریکہ اس جنگ پر بے پناہ دولت خرچ کر رہا تھا، جو اس کے اتحادیوں کے مفاد میں بھی تھا۔ لہٰذا، ایک طرف جہاں امریکہ کو اس پوزیشن سے عالمی رہنمائی کا فائدہ مل رہا تھا، وہیں دوسری طرف یورپ اور عرب دنیا کو بھی کمیونزم کے خلاف ایک مضبوط محافظ کی ضرورت تھی، جس کے پیش نظر انہیں ڈالر کی اس "دھندے بازی" کو بطور ایک ضروری برائی قبول کرنا پڑا۔

اس فیصلے کے بعد ڈالر کی قدر کم ہوئی مگر امریکہ کی برآمدات بڑھیں۔ وقتی طور پر امریکی معیشت کو سہارا ملا۔ وال اسٹریٹ کے بینک اور سرمایہ کاروں کے لیے نیا سنہری دور شروع ہوا۔ چونکہ اب کرنسیاں آزادانہ اتار چڑھاؤ کا شکار تھیں، غیر ملکی زرمبادلہ کی تجارت اور سودی شرحوں پر کاروبار بڑھنے لگا۔ لندن کی یوروڈالر مارکیٹ، جو پہلے ہی امریکی ڈالر کے لین دین کا مرکز بن چکی تھی، اب اور طاقتور ہو گئی۔

سنہ 1973 میں ایک اور فیصلہ کن موڑ آیا جب امریکہ اور سعودی عرب کے درمیان خاموش معاہدہ ہوا کہ آئندہ تیل صرف ڈالر میں فروخت کیا جائے گا۔ یوں “پیٹروڈالر” نظام پیدا ہوا۔ اب ہر ملک کو تیل خریدنے کے لیے ڈالر کی ضرورت تھی، اور ڈالر حاصل کرنے کے لیے سب کو امریکی مالیاتی نظام سے جڑنا پڑا۔ یہ ایک ایسی چال تھی جس نے ڈالر کو پہلے سے بھی زیادہ مضبوط کر دیا۔

دوسری طرف ترقی پذیر ممالک کے لیے یہ نیا نظام مہنگا اور خطرناک ثابت ہوا۔ چونکہ اب قرضے ڈالر میں اور متغیر شرح سود پر ملتے تھے، تو ہر بار امریکی پالیسی میں معمولی تبدیلی سے ان ملکوں کے قرض بڑھ جاتے۔ 1980 کی دہائی میں لاطینی امریکہ، افریقہ، اور ایشیا کے کئی ممالک قرضوں میں ڈوب گئے۔ یوں مالیاتی طاقت گلوبل نارتھ کے ہاتھوں میں مرتکز ہوتی گئی۔

آج جب ہم عالمی معیشت کو دیکھتے ہیں تو اس کو اب بھی ڈالر کی غالب حیثیت نے یرغمال بنا رکھا ہے۔ دنیا کے قریب 59% زر مبادلہ کے ذخائر، 50% کے قریب بین الاقوامی ادائیگیاں، اور خام تیل و گیس جیسی اہم عالمی تجارت کا بڑا حصہ امریکی ڈالرز میں ہی ہوتا ہے۔ یہی وہ بنیاد ہے جس کی بنا پر امریکہ جب چاہے اپنی شرح سود میں تبدیلی کر کے پوری دنیا کی معیشت میں اتار چڑھاؤ پیدا کر سکتا ہے۔ یہ وہ غیر معمولی مالیاتی طاقت ہے جو درحقیقت نکسن کے اُس یکطرفہ فیصلے سے پیدا ہوئی تھی، جس نے ڈالر کو سونے کی پابندی سے آزاد کرایا تھا۔ اگرچہ یورو اور دیگر کرنسیوں نے اپنا کردار بڑھایا ہے، مگر ڈالر کی بالادستی کا مرکزی کردار اب تک برقرار ہے۔

یہی دور بعد میں نیو لبرل ازم کی بنیاد بنا۔ امریکہ اور برطانیہ نے مالیاتی آزادی، مارکیٹ کی خود مختاری، اور سرمایہ کاری کی لبرل پالیسیوں کو عالمی اصول بنا دیا۔ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور ورلڈ بینک نے انہی پالیسیوں کے ذریعے ترقی پذیر ممالک پر شرائط لگائیں۔ اس پورے عمل کی جڑ وہی نکسن شاک تھا، جس نے دنیا کو سونے سے الگ کر کے مالیاتی اقتدار کو چند طاقتور ملکوں کے ہاتھ میں دے دیا۔

اسوقت گلوبل ساؤتھ کے ممالک برکس تنظیم کی رہنمائی میں اس نظام کا متبادل ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ مگر ابھی تک کوئی کرنسی ڈالر کی جگہ نہیں لے سکی۔ وجہ صاف ہے کہ دنیا کا مالیاتی ڈھانچہ امریکی اداروں، قوانین، اور منڈیوں سے بندھا ہوا ہے۔ چاہے کسی کو پسند ہو یا نہیں، عالمی تجارت کا کعبہ ابھی تک واشنگٹن ہی میں ہے۔

راجہ مبین اللہ خان

Shipping Notes
  • Free Standard Shipping on $100+ Orders to the USA.
  • Except Preorder products are shipped in 48 hours.
  • Delivery to the USA:
  1. Standard Shipping : 3-10 business days
  • If time is of the essence, please consider selecting expedited delivery for faster service.
Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy
SKU: 21132295216

Discover Niche Categories That Outsell

Top-Converting Item to Boost Your Average Order

4.3 ★★★★★
Based on 21 reviews
Sort
Highest Rating
Newest First
Oldest First
Product Reviews
M
Verified Purchase
MarieKristie
Belleville, US
★★★★★ 5
Firm and dense to the Extreme!!
Size: Queen Size(2 Pack)
I love my pillows, extremely firm and also extremely dense. I hate when a pillow gets worn down in the middle after like a few weeks or a month and then you’re struggling to get it full again. It’s absolutely impossible. When I got these pillows, it said that it might take 24 hours for them to fully enlarge. I enrolled them and took a look at this flat thin thing and I thought, oh my God, I made a huge mistake in ordering these. Went into the kitchen, made some dinner after dinner went into my bedroom and holy moly, these pillows were massive. I was so excited and I couldn’t wait to sleep on them. Now mind you, I am a side sleeper, so that’s why I like a very full and firm pillow. I do love how full they are, however, it was a little much. Luckily, you can unzip them and take some of the filling out. A little tip is to keep the little zipped bag they give you and you can put some extra filling in there and zip it and if you ever want to fill it back up, it’s easy. I took about 15% of the filling out of each pillow which to me was perfect, but I could see people wanting to take much more out. I love that you have the option of taking it out and putting it back in if you ever need to, but I don’t think you’ll need to because these pillows will never get squishy or flat. I love these pillows so much that I don’t know if I could ever exist without them. Please never discontinue these because if I ever need to get another set, I want them available. Best pillows I’ve ever had in my entire life. Period!
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on December 15, 2025
R
Verified Purchase
Rich
New York, US
★★★★★ 5
QUTOOL Memory Foam Cooling Pillows
Size: Queen Size(2 Pack)
These pillows are incredible. They are thin and shrink wrapped when they arrive, but once open they warp into a perfectly sizes pillow which can be fluffed to your individual needs. They retain their shape and the memory foam conforms to your head while sleeping. They are cool on one side and warm on the other. I highly recommend them and they have a 100 day money back guarantee. This is the pillow I have been waiting for my entire life.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on April 28, 2026
A
Verified Purchase
Akeem
New York, US
★★★★★ 5
Comfortable and stays cool
Color: White-cooling Basic, Size: Queen(Pack of 1)
Great pillow. When i opened it, i noticed a strange smell, i assumed its the smell of whatever they use to make the pillow stay cool. You have to fluff it for a good amount of time to make sure the cooling agent spreads well in the foam. Is what i assumed atleast. Its a perfect amount of softness for me. Pair it with some bamboo pillow cases and you got a good night of sleep
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on May 9, 2026
K
Verified Purchase
Kim Groetsch
Pawtucket, US
★★★★★ 5
BEST, MOST COMFORTABLE PILLOWS EVER!
Color: White-cooling Basic, Size: Queen(Pack of 2)
I've used others.BEST PILLOWS EVER! Firm, cooling and supportive. LOVE THESE!
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on May 28, 2026
J
Verified Purchase
Juanita
West Palm Beach, US
★★★★★ 4
Comfortable and Supportive, but Adjust the Filling
Color: White-cooling Basic, Size: Queen(Pack of 2), Color: White-cooling Basic, Size: Queen(Pack of 2)
I’m very happy with this pillow. The size is big and it feels soft while still providing good support, perfect for midnight scrolling on TikTok. One thing to keep in mind is that it can feel a little too tall if you use all of the filling that comes with it. The good news is that you can easily adjust the amount of filling to find the height that works best for your sleeping position. Once I customized it, it was much more comfortable. Overall, great quality, comfortable, and worth the purchase.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on June 3, 2026

recommand products