SKU: 24203921508

Tim Marshall | Three Books Set | ٹم مارشل

Sale price$900.00 Regular price$1000.00
Save 10%

Pay in installments of $250.00 with ShopPay, AfterPay and Klarna

Shipping Estimate
USA
  • USA
  • CAN

Ships within 48 hours · Estimated delivery Jul 16 - Jul 21

Promo Codes Available:

For Your Every Summer RSVP, with Code: SUMMER15

Description

Tim Marshall | Three Books Set | ٹم مارشلThe Future of Geography Tim Marshall "" ( ) ( ) The Power of Geography Tim Marshall : " " : () " " " " ISBN9786273002361 Pages 376 (The Great Game) ISBN 9786273002866 Pages 331

The Future of Geography | Tim Marshall 

مستقبل کی جنگیں زمین پر نہیں بلکہ خلا میں ہوں گی۔ یہ کتاب عالمی طاقتوں کے درمیان وسائل اور اجارہ داری کی کشمکش پر روشنی ڈالتی ہے۔

اس جدید دور میں زمین ، ایک جنگلی اور لاقانونیت کی جگہ، "خلا" اب زمین پر مواصلات، اقتصادی، فوجی اور بین الاقوامی تعلقات کی حکمت عملی کا مرکز ہے۔ خلا اب ممکنہ طور پر فتح کا آخری میدان ہے۔

 ہم اقتدار کی جدوجہد کو اپنے ساتھ لے کر اوپر (خلا ) اور دور جا رہے ہیں۔ چین، امریکہ اور روس اس راہ میں آگے بڑھ رہے ہیں، اور نئی خلائی دوڑ زمین پر زندگی کو بدل سکتی ہے۔ خلا اب ممکنہ طور پر فتح کا آخری میدان ہے۔ جغرافیائی علاقہ اور وسائل سے لے کر سیٹلائٹ، ہتھیاروں اور ہمارے اوپر کے آسمانوں میں جغرافیائی سیاسی رکاوٹیں اتنی ہی اہم ہیں جتنی کہ نیچے ( زمین ) ہیں۔ اگر آپ نے کبھی سوچا ہے کہ کیا انسانیت چاند پر واپس آرہی ہے اور اس کی تلاش سے کس کو فائدہ ہوگا یا خلائی جنگیں کیسی نظر آئیں گی، اس کتاب میں اس کا جواب موجود ہے۔

جغرافیائی مستقبل / ٹم مارشل

ترجمہ رفعت طاہرہ

 

The Power of Geography | Tim Marshall 

جغرافیائی قوتیں اور عالمی سیاسی معرکہ آرائی – ایک فکری جائزہ

بزبان مترجم: علی احمد چودھری

دنیا کی سیاست، معیشت اور جنگوں کو سمجھنے کے لیے ہمیں صرف طاقت کے مراکز اور پالیسیوں کو ہی نہیں بلکہ جغرافیہ کو بھی بغور دیکھنا ہوگا۔ یہی وہ بنیادی نکتہ ہے جسے "جغرافیائی قوتیں اور عالمی سیاسی معرکہ آرائی" میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ بطور مترجم، جب میں نے اس کتاب کو اردو میں ڈھالا، تو مجھے بارہا یہ احساس ہوا کہ یہ محض جغرافیے پر کوئی خشک تجزیہ نہیں، بلکہ یہ ایک ایسا فکری نقشہ ہے جو ہمیں دنیا کے ماضی، حال اور مستقبل کو سمجھنے میں مدد دیتا ہے۔

یہ کتاب ہمیں بتاتی ہے کہ کس طرح زمین کی ساخت، پہاڑ، دریا، سمندر، اور سرحدی تقسیم قوموں کی تقدیر کا تعین کرتے ہیں۔ اگر ہم عالمی طاقتوں کے عروج و زوال کی داستان کو دیکھیں، تو ہمیں واضح نظر آتا ہے کہ قدرتی وسائل، جغرافیائی محلِ وقوع اور جغرافیائی چیلنجز ہمیشہ سے ریاستوں کے فیصلوں میں ایک اہم کردار ادا کرتے آئے ہیں۔ اس کتاب کا ترجمہ کرتے ہوئے، میں نے پایا کہ مصنف نے ہر ملک یا خطے کا تجزیہ محض سیاسی یا تاریخی نہیں، بلکہ ایک جغرافیائی پس منظر میں کیا ہے، جو عام قاری کے لیے ایک بالکل نیا زاویہ فراہم کرتا ہے۔

اس کتاب میں دنیا کے دس اہم ترین جغرافیائی خطوں پر روشنی ڈالی گئی ہے، جو مستقبل میں عالمی سیاست پر گہرے اثرات ڈال سکتے ہیں۔ ان میں درج ذیل علاقے شامل ہیں:

آسٹریلیا – اپنی جغرافیائی تنہائی کے باوجود، ایک ابھرتی ہوئی طاقت

ایران – اپنی قدرتی سرحدوں اور تاریخی پس منظر کے ساتھ ایک منفرد سیاسی و عسکری چیلنج

سعودی عرب – تیل کی دولت اور جغرافیائی پوزیشن کی اہمیت

برطانیہ – جزیرہ ہونے کے فوائد اور بریگزٹ کے بعد کا عالمی منظرنامہ

ترکی – یورپ اور ایشیا کے سنگم پر موجود ایک تاریخی اور جغرافیائی قوت

یونان – قدیم تاریخ کے ساتھ جدید جغرافیائی پیچیدگیاں

ہسپانیہ (اسپین) – یورپ اور افریقہ کے درمیان موجود ایک فیصلہ کن خطہ

فرانس – جغرافیائی تنوع اور سیاسی اثر و رسوخ

ایتھوپیا – افریقہ کی نئی جغرافیائی و سیاسی حقیقت

امریکہ اور خلا – زمین سے آگے کی جغرافیائی وسعتیں

ایک مترجم کے طور پر، میرے لیے سب سے بڑا چیلنج یہ تھا کہ میں کتاب کے اسلوب کو برقرار رکھوں اور ساتھ ہی اردو زبان کے فکری و علمی ذخیرے کو بھی استعمال کروں۔ جغرافیائی تجزیے کو کتابی زبان میں ترجمہ کرنا آسان کام نہیں تھا، لیکن میں نے کوشش کی کہ زبان سادہ مگر بامحاورہ ہو، تاکہ قاری کو یہ احساس نہ ہو کہ وہ کسی ترجمہ شدہ کتاب کو پڑھ رہا ہے، بلکہ ایسا لگے کہ یہ کتاب شروع ہی سے اردو میں لکھی گئی تھی۔

مصنف نے بعض مقامات پر طنز اور مزاح کا بھی استعمال کیا ہے، جسے میں نے ترجمے میں محفوظ رکھنے کی کوشش کی، تاکہ متن کی روح برقرار رہے۔ اسی طرح، جہاں جہاں گہرے سیاسی یا تاریخی نکات بیان کیے گئے، وہاں میں نے اردو زبان کی کلاسیکی اور جدید اسلوبیاتی روایات کو مدنظر رکھا، تاکہ متن میں وہی شدت اور گہرائی برقرار رہے جو اصل کتاب میں پائی جاتی ہے۔

یہ کتاب محض ایک علمی تحقیق نہیں، بلکہ ایک عملی رہنما ہے جو ہمیں عالمی حالات کی پیچیدگیوں کو سمجھنے میں مدد دیتی ہے۔ آج کے دور میں، جب دنیا جغرافیائی، سیاسی اور اقتصادی بحرانوں سے گزر رہی ہے، یہ کتاب ہمیں ان عوامل کی جڑوں تک پہنچنے کا موقع دیتی ہے۔ اگر ہم صرف طاقت، سفارتکاری یا معیشت کو دیکھیں، تو شاید مکمل تصویر نظر نہ آئے، لیکن جب ہم ان تمام چیزوں کو جغرافیہ کے عدسے سے دیکھتے ہیں، تو ہمیں وہ پہلو نظر آتے ہیں جو عام طور پر نظرانداز کر دیے جاتے ہیں۔

آج کے بدلتے ہوئے عالمی حالات میں، جب طاقت کا توازن مشرق اور مغرب کے درمیان تبدیل ہو رہا ہے، جب نئی ابھرتی ہوئی طاقتیں عالمی سطح پر اپنی جگہ بنا رہی ہیں، اور جب وسائل کی جنگ اور ماحولیاتی تبدیلیاں بین الاقوامی پالیسیوں کو متاثر کر رہی ہیں، تو "جغرافیائی قوتیں اور عالمی سیاسی معرکہ آرائی" جیسی کتابیں پڑھنا ناگزیر ہو جاتا ہے۔ یہ کتاب ایک وارننگ بھی ہے اور ایک رہنما بھی کہ اگر ہم جغرافیہ کی طاقت کو نظرانداز کریں گے، تو ہم مستقبل کی سیاست اور عالمی تعلقات کو پوری طرح سمجھنے سے قاصر رہیں گے۔

بطور مترجم، میں نے اس کتاب کے ہر لفظ کو اس نیت سے اردو میں منتقل کیا ہے کہ یہ ایک علمی خزانے کی حیثیت اختیار کرے۔ میری خواہش ہے کہ یہ کتاب نہ صرف اسکالرز اور طلبہ کے لیے مفید ہو، بلکہ عام قارئین بھی اس سے استفادہ کریں اور دنیا کے جغرافیائی حقائق کو ایک نئے زاویے سے دیکھنے کے قابل ہوں۔ یہ ایک ایسی کتاب ہے جو ہمیں بتاتی ہے کہ سیاست، معیشت، جنگ، اور طاقت کے تمام کھیل، آخرکار زمین کے ان خد و خال پر ہی کھیلے جاتے ہیں، جنہیں ہم جغرافیہ کہتے ہیں۔

"جغرافیائی قوتیں اور عالمی سیاسی معرکہ آرائی" محض ایک کتاب نہیں، بلکہ ایک نظریہ ہے جو ہمیں دنیا کو دیکھنے کا ایک منفرد انداز فراہم کرتا ہے۔ میں امید کرتا ہوں کہ اردو قارئین اس کتاب کو اسی فکری وسعت کے ساتھ پڑھیں گے جس کے ساتھ اسے لکھا گیا 

اور میں نے اسے ترجمہ کیا۔

ISBN9786273002361

Pages 376

کتاب امریکا، روس، چین، یورپ، مشرق وسطی، افریقہ ، ہندوستان و پاکستان، لاطینی امریکا اور آرکٹک ایسے خطوں کے جغرافیائی و سیاسی حالات پر گہری نظر ڈالتی ہے۔ نیم مارشل ، بیان کرتے ہیں کہ روس کی وسیع لیکن سرد اور دشوار گزار زمین نے اسے جارحانہ دفاعی حکمت عملی اپنانے پر مجبور کیا جبکہ چین کو اپنی مغربی سرحدیں محفوظ رکھنے کے لیے سخت اقدامات کرنے پڑے۔ اسی طرح، مشرق وسطی کی جغرافیائی اور قبائلی تقسیم، خطے میں تنازعات کو مزید پیچیدہ بنادیتی ہے۔

دنیا کی سیاست محض معاشی، عسکری یا سفارتی نقطہ نظر سے دیکھنا کافی نہیں جغرافیہ بھی سمجھنا ضروری ہو گا۔ تاریخ گواہ ہے کہ کوئی بھی قوم اپنی جغرافیائی حقیقتوں سے فرار حاصل نہیں کر سکی۔ یہی وجہ کہ طاقتور ترین ممالک بھی اپنی جغرافیائی حدود اور چیلنجز کے مطابق اپنی حکمت عملی تیار کرتے ہیں۔ یہ کتاب، جغرافیہ کی اسی ناگزیر حقیقت کو واضح اور بنیادی سوالات کے جواب تلاش کرتی ہے۔

روس اپنے ہمسایہ ممالک پر اثر و رسوخ کیوں برقرار رکھنا چاہتا ہے اور یوکرین کے ساتھ اس کے تعلقات اتنے پیچیدہ کیوں ہیں؟

چین اپنی مغربی سرحدوں پر کنٹرول رکھنے کے لیے سنکیانگ اور تبت پر گرفت مضبوط کیوں رکھنا چاہتا ہے ؟

امریکا کی قدرتی وسائل اور جغرافیائی تحفظ کی وجہ سے عالمی طاقت بنے میں کیسے ، مدد ملی؟

مشرق وسطی میں تیل اور قدرتی وسائل کی تقسیم نے اس خطے میں جنگوں اور تنازعات کو کیسے جنم دیا؟

ٹم مارشل نے اپنی کتاب میں انیسویں صدی میں افریقہ پر قبضے کی دوڑ اور مشرق وسطی، ہندوستان اور افغانستان میں عظیم طاقتوں کی سیاسی چالوں کا تفصیل سے ذکر کیا ہے۔ ان علاقوں میں جغرافیائی حقیقتوں نے عالمی طاقتوں کے مفادات متاثر کئے اور ان کے سیاسی فیصلوں کو شکل دی۔ انیسویں صدی کے آخر میں یورپی طاقتوں نے افریقہ میں اپنے اثرات پھیلانے کے لیے قبضے کی دوڑ شروع کی تھی۔ اس دوران، افریقہ کی جغرافیائی تقسیم اور وسائل نے یورپی طاقتوں کو براعظم میں مفادات کے حصول کے لیے ایک دوسرے کے خلاف رقابت میں ملوث کر دیا تھا۔ یورپ نے افریقہ کی وسیع زمینوں پر قابض ہونے کے لیے سیلفش سیاسی چالیں چلیں تاکہ اپنے معافی اور فوجی فوائد کے لیے خطے کو اپنے قابو میں کر رسکیں، جیسا کہ برطانیہ، فرانس، بیلجئیم اور دیگر طاقتیں ان علاقوں میں داخل ہوئیں۔ مشرق وسطی میں ، روس اور برطانیہ کی سیاسی چالوں کا مقصد اس خطے پر اپنے اثرات بڑھانا اور سٹراٹیجک راستوں پر کنٹرول حاصل کرنا تھا۔ روس کو گرم پانیوں تک رسائی کی شدید خواہش تھی، جب کہ برطانیہ اپنے سامراجی مفادات کے تحفظ کے لیے وہاں موجود تھا۔ روس اور برطانیہ کے درمیان اس سیاسی کشمکش کو ” گریٹ گیم“ (The Great Game) کہا جاتا ہے، جو افغانستان، ایران اور وسطی ایشیا کے علاقے میں شدت سے کھیلی گئی۔ برطانیہ نے ہندوستان میں اپنی سلطنت، مستحکم کرنے کے لیے افغانستان کو اپنے مفادات کے لیے اہم سمجھا۔ افغانستان کا جغرافیہ ، برطانوی ہندوستان اور روس کے درمیان بطور ایک بفر زون، برطانیہ کے لیے ایک نہایت اہم سڑا میجک مقام رکھتا تھا۔ برطانوی حکام نے اسے اپنے اثر ورسوخ میں رکھنے کی کوشش کی تاکہ روس کی بڑھتی ہوئی طاقت روک سکیں۔ روس نے بھی افغانستان کی طرف اپنی نظریں گاڑی ہوئی تھیں تا کہ وہ بر طانوی سامراجی طاقت کو چیلنج کر سکے۔ ٹیم مارشل نے اپنی کتاب میں ان سیاسی چالوں کا جائزہ لیا  اور جغرافیہ چھانا کہ کس طرح سرحدوں اور وسائل نے عالمی طاقتوں کے سیاسی فیصلوں کو متاثر کیا اور ان کی حکمت عمیلوں میں کلیدی عنصر ثابت ہوئے۔

ISBN 9786273002866

Pages 331

Shipping Notes
  • Free Standard Shipping on $100+ Orders to the USA.
  • Except Preorder products are shipped in 48 hours.
  • Delivery to the USA:
  1. Standard Shipping : 3-10 business days
  • If time is of the essence, please consider selecting expedited delivery for faster service.
Exchange/Return Notes
  • We offer a 30-day return/exchange service after receiving.
  • Final sale items are not eligible for returns or exchanges.
  • To process your return/exchange, please contact us at [email protected]
  • Please click here for more details>>> Return & Exchange Policy
SKU: 24203921508

Discover Niche Categories That Outsell

Top-Converting Item to Boost Your Average Order

4.8 ★★★★★
Based on 20 reviews
Sort
Highest Rating
Newest First
Oldest First
Product Reviews
J
Verified Purchase
Jane Doe
West Palm Beach, US
★★★★★ 5
Ordinary People, Extraordinary Experiences
Format: Hardcover
A beautiful and interesting coffee table book. Whether you're a believer or not,the many photos of the Swiss countryside are lovely, and the photos and remarks from ordinary people like us are interesting and moving. Experiencer or not, a worthwhile purchase.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on August 7, 2025
C
Verified Purchase
Carla McBeath
New York, US
★★★★★ 5
I read the quotations first
Format: Hardcover
Of all the stories I have read about those who experienced extraterrestrial life, and all those who told those stories, Billy Meier's story is the most authentic. This book is a beautifully written and photographed narrative of Meier's relationship with various people from the stars, over a period of time. Billy himself reminded me of my best friends in the 1960's and 70's--quiet and kind. But the most remarkable part of this book, apart from the extraordinary photographs, is that there are quotations from the extraterrestrial visitors themselves, which are worth reading, in order. Yes, you might still not believe this happened, but you cannot help but absorb insights in those quotations. You will not forget them.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on July 17, 2024
R
Verified Purchase
Richard Borutta
Chelsea, US
★★★★★ 5
A Civilization in Transition: Can Humans Make the "Jump" to Hyperspace?
Format: Hardcover
Though there is ample evidence to suggest that humanity has been visited by "off-planet" beings or relatives since as far back as any recorded history in stone or on paper, with the advent of technologies bringing us closer to an enlightenment or a destruction, UFO/UAP events seem to becoming more frequent. And more accepted. When UFO...CONTACT FROM THE PLEIADES v I and II were first published 45 years ago few people had a personal computer in their homes let alone any digital technology whatsoever. There were gains in human rights protections along with ecological study and the awareness of the importance to "love our Mother." (Earth) So it may not be so unreal to consider that one specific human, a farmer in rural Switzerland was chosen for multiple contact events and allowed to capture photographs, audio recordings, films and even metallic samples from OP visitors for the purpose of helping humanity expand its consciousness to the next level. This reissue tells such a story with vivid photography, detailed analysis and skilled reporting having used the most advanced non-civilian equipment available at the highest levels in its day. Furthermore, time has only affirmed that none of the photographs or video from the Billy Meier case have proved to be fake or forged in any known way. This is the book for searchers interested in the "nuts and bolts" of ufology. And yet... Whether you believe in UFOs or off-planet visitors is really beside the point here. The deeper point - and the not so hidden purpose revealed through the messages given to Billy Meier from Semjase, a Pleiadean traveler who contacted Meier over 100 times in the 1970s - is to consider if each one of us is capable of suspending disbelief long enough to be curious, which takes an open heart. And if we open our hearts, how can we do harm to ourselves, our planet, or others in the universe? And if we can achieve "do no harm" what else could we achieve? Hyperspace? Telepathy? A humane civilization where no one goes hungry or homeless? The point is whether or not we are ready, collectively, to expand our consciousness. After reading this book, I want to take that leap!
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on May 3, 2024
J
Verified Purchase
JFG
Charlottesville, US
★★★★★ 5
A wonderful book !l
Format: Hardcover
No doubt the subject of UFO's and ET's is a challenging subject. But the Billy Meier story is certainly one of the very best. This book is masterwork that warrants the highest rating. The photos are extraordinary and the story line is superb. Buy a copy or several for yourself and for gifts . A. very happy customer ....indeed.
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on October 22, 2024
E
Verified Purchase
EAB
Omaha, US
★★★★★ 5
Amazingly well written
Format: Hardcover
Nice book. Pictures and honest interviews and reports via credible down to earth persons. They don't weigh you down with hundreds of pages to read. Well done
WAS THIS REVIEW HELPFUL?YesReportShare
Reviewed in the United States on September 15, 2024

recommand products